CHAPTER 4:
Recent and Scientific Methods of
Research Article and Thesis Writing in Urdu
اردو
میں تحقیقی
مقالہ نگاری
کے جدید تر
اور سائنٹیفک
اصول
4.1
پس
منظر
ترقی
یافتہ علمی
دنیا مں
تحقیقی مقالہ
لکھنے یا
"رسمیات
تحقیق" کو
سائنٹیفک اور
معیاری بنانے
کا کام اور اس
پر عمل کا
آغاز
اٹھارویں صدی
ہی میں شروع
ہوچکا تھا-
چنانچہ حواشی
و کتابیات کے
معیاری اصول
اور اشاریہ
سازی کا
اہتمام مغربی
زبانوں میں
لکھی جانے
والی کتابوں
میں اسی عرصے
میں نظر آنے
لگا تھا۔
معاشرتی علوم
اور ادبیات میں
علمی نوعیت کی
جدید رسمیات
پر مبنی
کتابیں اور
تحقیقی مجلے
اس وقت عام ہونے
لگے تھے جب
رائل ایشیا ٹک
سوسائٹی نے
خصوصا تاریخ کے
موضوعات پر
اپنے مطالعات
کو جدید
اصولوں کے تحت
شائع کرنے کا
آغاز کیا اور
یورپ کے دیگر ملکوں
جیسے جرمنی،
اٹلی، فرانس
اور ہالینڈ کے
تحقیقی اور
اشاعتی
اداروں نے بھی
اس جانب پیش
قدمی کی اور
اسی زمانے میں
خصوصا تحقیق و
ترتیب متن کی
بہترین
کوششیں سامنے
آنے لگیں۔
مغربی
جامعات اور
تحقیقی و
طباعتی ادارے
اس بارے میں
اپنے اختیار
کردہ یا وضع کردہ
رسمیات کو بے
حد اہمیت دیتے
اور ان کی
پابندی کرتے
ہیں۔ ان
اداروں اور
جامعات میں ان
رسمیات کے
معیارات میں
فرق یا اختلاف
ہو سکتا ہے۔
لیکن ہر ادارہ
یا جامعہ اپنے
لئے وضع کردہ
اور اختیار
کردہ اصولوں
پر سختی سے
کاربند رہتی ہیں۔
آکسفورڈ اور
کیمبرج کی
جامعات میں ان
کے طباعتی
اداروں میں یہ
رسمیات باہم
مختلف ہوسکتی
ہیں لیکن
کیمرج میں
لکھا جانے
والا ہر مقالہ
یا وہاں سے
شائع ہونے
والی ہر کتاب
بڑی حد تک
یکساں
معیارات اور
اصولوں کے تحت
لکھی یا شائع
کی جاتی ہیں۔
یوں ہم تحقیق
میں ہر مغربی
جامعہ یا
تحقیقی ادارے
کو اپنی مخصوص
رسمیات یا
اسالیب و
اصولوں پر عمل
پیرا دیکھ
سکتے ہیں۔
لیکن
افسوس آج تک
اردو میں
تحقیق کی
رسمیات متفقہ
طور پر نہ طے
ہو سکیں۔ نہ
ان کے بارے
میں سوچا
گیا اور نہ ہی
کوئی مناسب پیش
رفت ہوسکی۔
چنانچہ ایک ہی جامعہ
میں، بلکہ اس
جامعہ کے ایک
ہی شعبے میں
لکھے جانے
والے مقالات
باہم ایک دوسرے
سے مختلف ہو
سکتے ہیں۔ کسی
ایک مقالے میں
حواشی کسی طرح
لکھے جاتے ہیں
اور کتابیات
کسی طرح مرتب
کی جاتی ہے۔
دوسرے مقالے
میں ان کے
لکھنے اور
مرتب کرنے کے
اصول مختلف
ہوسکتے ہیں۔
راقم
نے، قریب قریب
اسی عرصے میں،
جب ڈاکٹر نجم
الاسلام نے اس
جانب توجہ دی،
اس بارے میں
سوچنا اور ایک
حد تک عمل
کرنا شروع
کردیا تھا۔
بلکہ پی ایچ
ڈی کیلئے
دوران تحقیق (1970ء -1975)
ہی اس تعلق سے
جدید مغربی
معیارات
اوراسالیب یا
رسمیات میں اس
حد تک جاذبیت
محسوس کی تھی
کہ اپنے مقالہ
"تحریک آزادی
میں اردو کا
حصہ" (مطبوعہ:
انجمن ترقی
اردو، کراچی،
1976ء) کو ان
ہی جدید
اصولوں اور
اسالیب کے
تابع رکھا اور
اسناد اور
مآخذ کے
حوالوں،
حواشی اور "فہرست
اسناد
محولہ"(کتابیت)
کے لئے وہ
اصول
اختیار
کیئے جو اس
وقت تک بلکہ
اب بھی اردو
میں شاذ ہی دیکھنے
میں آتے ہیں۔
4.2
رسمیات
مقالہ نگاری
4.2.1 عنوان
کا تعین
اگرچہ
عنوان راست
تحقیق کے ذیل
میں نہیں آتا
اور رسمیات کا
اطلاق اس پر
لازم نہیں،
لیکن اس سے
مقالہ نگار کے
تحقیقی مزاج
اور تجزیاتی و
تنقیدی ذہن کا
اظہار ہوتا
ہے۔ لہذا اسے
جامع اور
معنویت کا
حامل ہونا
چاہیے اور
مناسب ہے کہ
یہ غیر ضروری
الفاظ اور
طوالت سے پاک،
مختصر اور
جاذب توجہ ہو۔
اردو میں بالعموم
عنوان کی
جاذبیت کیلئے
اس کی معنویت
کی مناسبت سے
الفاظ کے
انتخاب اور
الفاظ کی
ترتیب یا بندش
کو خاطر خواہ
اہمیت نہیں دی
جاتی- مثلا
ایک عنوان ہے:
"پاکستان
اور بھارت کے
درمیان تجارت
کی صورت حال
اس کے مسائل
اور ان کا حل"
یہ
عنوان اپنی
جگہ یقینا
قابل فہم ہے،
لیکن اس کا
انداز قدیم ہے
اور یہ غیر
ضروری طوالت
کا حامل ہے۔
یا قدرے مختصر
بھی کیا جا
سکتا تھا جیسے:
"پاکستان
اور بھارت کے
درمیان تجارت:
صورت حال، مسائل
اور حل "
عنوان
میں قدیم اور
روایتی انداز
کی بجائے حروف
جار اور حروف
ربط سے گریز
کرکے زیادہ
جامعیت اور
اختصار پیدا
کیا جا سکتا
ہے، جبکہ
معنویت میں
کوئی فرق نہیں
پڑتا۔ اسی طرح
ایک عنوان ہے:
"حضرت
خواجہ باقی
باللہ کی علمی
اور متصوفانہ
خدمات کا ایک
تنقیدی جائزہ"
یہاں
لفظ جائزہ
مناسب نہیں
ہے۔ اسے
مطالعہ ہونا
چاہیے جو
بامعنی ہے اور
پھر یہ بھی
محل نظر ہے کہ
"تنقیدی
جائزہ" تحقیق
کا موضوع کیسے
ہوسکتا ہے!
یہاں "تحقیقی
مطالعہ" ہونا
چاہیے۔ اس سے
قطع نظر اگر
تنقیدی
مطالعہ موضوع
کا تقاضا ہو
تو عنوان یوں
ہوسکتا ہے:
"حضرت
باقی باللہ:
علمی اور
متصوفانہ
خدمات کا
تنقیدی
مطالعہ"
ورنہ
"حضرت
باقی باللہ:
علمی اور
متصوفانہ
خدمات کا
مطالعہ" کافی
ہے، جس میں اس
مطالعے کی
تنقیدی یا
تحقیقی نوعیت
کا مفہوم شامل
ہے۔ اسی طرح ایک
عنوان ہے۔
"شرعی
حدود کے نفاذ
کی تاریخ اور
پاکستان میں
ان کے نفاذ کا
جائزہ"۔
یہ
عنوان اس طرح
ہوسکتا تھا:
"شرعی
حدود کا نفاذ:
پاکستان میں
ان کے نفاذ کی
تاریخ"
اسی
طرح، دو تین
دہائیوں قبل
کا ایک عنوان
ہے:
"گزشتہ
صدی میں
راجھستان میں
اردو کی ترقی
میں غیر
مسلموں کا
حصہ"
اس
میں "گزشتہ
صدی" کے بجائے
"انیسویں
صدی" ہونا چاہیے
تھا کیونکہ یہ
عنوان اگر
اکیسویں یا بائیسویں
صدی میں پڑھا
جائے تو صرف
عنوان کو پڑھنے
سے مغالطہ
یقینی ہے۔
چنانچہ یہ
عنوان اس طرح
ہو سکتا ہے:
"
راجھستان میں
اردو کی ترقی:
انیسویں صدی
میں غیر
مسلموں کا حصہ
"
ایک
اور عنوان ہے:
"مولانا
محمد باقر
آگاہ کا عربی،
فارسی اور اردو
ادب میں حصہ"
یہ
اس طرح ہو
سکتا تھا:
"مولانا
محمد باقر
آگاہ: عربی
فارسی اور
اردو خدمات"
یا:
"مولانا
محمد باقر
آگاہ: عربی
فارسی اور
اردو خدمات،
ایک مطالعہ"
ایک
یہ بھی عنوان
ہے:
"ہند
فارسی ادب میں
سر ہند کے
مصنفین کا
حصہ"
یہ
عنوان یوں
ہوسکتا تھا:
"ہند
فارسی ادب:
مصنفین سرہند
کا حصہ"
عنوان
کے انتخاب میں
اختصار اور
الفاظ کا جامع
و بامعنی
استعمال بڑی
اہمیت اور کشش
رکھتا ہے اور
عنوان کی
جاذبیت ہی
مقالے کو قابل
توجہ بنا سکتی
ہے۔ ہمارے ہاں
ذیلی عنوان کو
قوسین میں
لکھنے کا ایک
عام رحجان ہے،
جبکہ قوسین کا
استعمال
عنوان میں غیر
ضروری اور بلا
جواز ہو سکتا
ہے۔ مثلا ایک
عنوان ہے:
"سب
رس کا مطالعہ
(تحقیقی کی
روشنی میں)"
یہ
قطعی مناسب
نہیں۔ اسے اس
طرح لکھنا
چاہیے تھا:
سب
رس کا مطالعہ:
تحقیق کی
روشنی میں
بلکہ
زیادہ بہتر
ہوسکتا ہے:
"سب
رس: ایک
تحقیقی
مطالعہ"
ان
مثالوں کی
روشنی میں
گویا عنوان کو
مختصر اور
جامع ہونا
چاہیے اور حرف
جار و حروف
ربط کے غیر
ضروری
استعمال سے بے
نیاز ہو اور
اس میں قوسین
کے استعمال سے
گریز کیا جانا
چاہیے۔
4.2.2 اقتباس کا
مسئلہ
بعض اوقات
موضوع اور نفس
مضمون کی
مناسبت سے
مقالہ
نگار/مصنف کو
کوئی اقتباس
یا قول بطور
حوالہ یا مثال
یا ثبوت اپنے
خیال کی تائید
و
حمائت میں
اپنے دلائل و
تجزیے کو موثر
اور مستند
بنانے کے لیے
نقل کرنا پڑتا
ہے۔ لیکن یہ انداز
کہ ہر جگہ اصل
لفظ یا عبارت
نقل کر دی جائے،
جدید اصولوں
کے تحت مستحسن
نہیں ہے۔ اب
رواج یہ ہے کہ
جو عبارت،
اقتباس یا
خیال بطور
ثبوت یا معاونت
پیش کیا جائے،
وہ اصل لفظوں
یا کل عبارت
کی صورت میں
نہ ہو بلکہ اس
کل عبارت یا
اقتباس کو مقالہ
نگار اپنے
لفظوں میں
اختصار کے
ساتھ تحریر
کرے اور اس
عبارت یا
اقتباس کا مکمل
حوالہ حاشیے
میں ضروری
تفصیلات کے
ساتھ درج کر
دے کہ وہ ماخذ
میں کس صفحے پر
ہے یا کس صفحے
سے کس صفحے تک
پھیلا ہوا ہے۔
ہمارے بعض
مصنفین کئی
کئی پیراگراف
بلکہ کئی کئی
صفحات پر
مشتمل عبارت
بھی بعینہ نقل
کر دیتے ہیں،
جبکہ محض اس
عبارت کے نفس
مضمون کو
اپنے لفظوں
میں تحریر کر
دینا اور اس
کے ماخذ کا
حوالہ دے دینا
کافی ہے۔ ہاں،
بعض صورتوں
میں، جہاں
عبارت کے اصل
الفاظ نقل
کرنے ضروری
ہوں تاکہ وہ
اصل الفاظ
بطور مثال یا
ثبوت بحث کی
معاونت کر
سکیں تو وہ
متعلقہ الفاظ
یا سطور یا
عبارت بصورت
اقتباس نقل کی
جاسکتی ہے۔
لیکن اس کے
لیےپابندی یہ
ہونی چاہیے کہ
اگر وہ اقتباس
محض چند لفظوں
یا ایک آدھ
سطر پر مشتمل
ہو تو اسے
جاری جملے ہی
میں واوین میں
نقل کر دینا
چاہیے اور پھر
اس کے خاتمے
پر حاشیے کا
نشان لگا کر
اس کا حوالہ
یا ماخذ کی
تفصیل حاشیے میں
درج کر دینا
چایئے۔ لیکن
اگر اقتباس
ایک آدھ سطر
سے زیادہ ہو
تو اسے
نیچےاگلی سطر
کی جگہ پر ،
درمیان میں،
دونوں جانب
یکساں فاصلہ
چھوڑ کر نقل
کرنا چاہیے
اور یہ بھی
التزام رکھنا
چایئے کہ اس
اقتباس کی
کتابت کا سائز
عام کتابت کے
سائز
سے
۔۔۔۔۔۔۔دو
فونٹ کم ہو۔
اس طرح وہ
اقتباس
درمیان میں
ہونے اور
کتابت کا
سائزکم ہونے
کی وجہ سے
نمایاں اور
متن سے مختلف
نظر آتا ہے
لیکن اس کے
باوجود وہ کسی
حجم کا ہو اس
کے آغاز و
خاتمے پر
واوین کا اہتمام
ضرور ہونا
چاہئے۔ مثلا
ایک اقتباس
ذیل میں دیکھا
جا سکتا ہے،
جس میں دوہرے
واوین﴿دو
واوین دونوں
جانب﴾اور
اکہرے واوین ﴿ایک
ایک واو،
دونوں جانب﴾
کا استعمال
اور ان کافرق
توجہ طلب ہے:
"شیخ
مبارک ۔۔۔نے
فورا" ایک شرعی
فتوے کامضمون
تیار کیا اور
اسے سلطنت کے
سربرآور دہ
علماء کے
دستخطوں کے
لیےپیش کر دیا
۔ اس فتوے میں
اس مشہور
اسلامی اصول
کہ بیان کیا
گیا کہ اگر
قرآن و سنت کے
احکام اپنے
نفاذ میں کسی
صورت حال پر
پوری طرح منطبق
نہ ہوتے ہوں
اور علمائے
شریعت اپنی
تفسیر و تعبیر
میں متحد نہ
ہوں تو ' ایک
سلطان عادل'
کو یہ حق حاصل
ہےکہ جو
اجتہادات پیش
کیے گیے ہوں، ان
میں سے کسی
ایک کو تسلیم
کر لے۔ "۱
اس
اقتباس میں،
جو دوہرے
واوین میں
لازما نقل کیا
جائے گا، اس
لیے یہاں اسی
طرح نقل کیا گیا
ہے ، تین
الفاظ "ایک
سلطان عادل"
کو اکہرے واوین
میں تحریر کیا
گیا ہے، جس کی
غرض و غایت یہ
ہے کہ اقتباس
کی اس عبارت
میں ۔۔۔۔۔یا
یہ کسی بھی
عبارت یا جملے
میں کیا جا
سکتا ہے، ان الفاظ
یا' ایک سلطان
عادل' کو نمایاں
کرنا یا پڑھنے
والوں کو ان
کی طرف خاص
طور پر توجہ
دلانا مقصود
ہو۔
اس
اقتباس کے
آغاز میں جو
تین نقطے
دیکھے جا سکتے
ہیں، ان کا
مطلب کسی
اقتباس میں یہ
ہوتا ہے کہ اس
مقام پر اس
اقتباس کی کچھ
عبارت، جملہ یا
الفاظ اقتباس
سے حذف کر دیے
گیے ہیں ، جو
کسی وجہ سے غیر
ضروری سمجھے
گئے۔ اس صورت
میں تین نقطے
لگانے کا یہی
مطلب ہوتا
ہےاور پھر اس
کے بعد عبارت
کو مربوط کر
لیا جاتا ہے۔
بین
السطور
اقتباس کی
مثال یہ ہے،
جسے ایک عام
عبارت میں
شامل یا نقل
کی جا رہا ہے:
۔۔۔نوجوان
ابوالکلام کا
خیال تھا کہ
"جو تحریک صرف
بر عظیم تک
محدود ہو، وہ
مقامی مسلم
ملت کی کوئی
خدمت نہیں کر
سکتی، وہی
تحریک کچھ
مفید ہو سکتی
ہے جو تمام
دنیا کے
مسلمانوں کو
اپنی آغوش میں
لے لے" ۔ ۲ لیکن
عمر رسیدہ
ابوالکلام
محض ہندوستانی
قوم پرست اور
سیاست داں بن
کر رہ گے ! ۔۔۔
اگر
یہیں اسی جگہ
کوئی مصرعہ،
کوئی شعر یا
اشعار نقل
کرنے ہوں تو
ان کو واوین
میں لکھنا
ضروری نہیں،
ہاں حوالہ
دینا ضروری ہے
، اور اس مقصد
کے لیے شعر کے
اختتام پر
حاشیے کا نشان
لگانا چاہیے۔
یہاں بیت کی
علامت ﴿ ﴾
درج
کر کے شعر نقل
کیا جاتا ہے
تو ہی ناداں
چند کلیوں پر
قناعت کر گیا
ورنہ گلشن
میں علاج تنگی
داماں بھی تھا
۳
اس
طرح شعری
اقتباس
کے لیے واوین
کا اہتمام
ضروری نہیں
اور اگر یہ
اقتباس محض
ایک مصرعے یا
مصرعے کے ایک
ٹکڑے کا ہے تو
اسے جاری سطر
کے درمیان نقل
کیا جا سکتا
ہے۔ مثال کے
طور پر یہ
عبارت دیکھیے
کہ: ڈاکٹر
اشتیاق حسین
قریشی نے
ابوالکلام آزاد
کی فکری
تبدیلیوں کا
جس طرح تجزیہ
کیا اور انھیں
اتحاد عالم
اسلام کا داعی
قرار دینے کے
بعد جب انھٰیں
محض
ہندوستانی
قوم پرست ہوتے
دیکھا تو یہی
سوچا ہو گا کہ "تو ہی
ناداں چند
کلیوں پر
قناعت کر گیا"
ورنہ وہ چاہتے
تو خود کو
جمال الدین
افغانی کا
جانشین بنا سکتے
تھے اور سارے
عالم اسلام کی
جانب سے عزت ووقار
حاصل کر سکتے
تھے۔
لیکن
اگر یہ اقتباس
ایک سے زیادہ
مصرعوں یا شعر
یا اشعار پر
مشتمل ہو تو
انھیں نیچے
درمیان میں،
دونوں جانب
یکساں فاصلہ
رکھ کر درج
کرنا چاہیے۔
اس صورت میں
آغاز اور
خاتمے پر
واوین لگانا
ضروری نہیں۔
اشعار
کے لیے بھی
ماخذ کا حوالہ
دینا ضروری ہے۔
چناچہ شعر یا
اشعار کے
خاتمے پر،
جہاں جہاں ضروری
ہو ، نثری
اقتباس کی طرح
حاشیے کا نشان
لگانا ضروری
ہے ۔ ان اشعار
کے ماخذ ایک
یا ایک سے
زیادہ ہوں اور
الگ الگ ہوں
تو ہر ایک کے
لیے متعلقہ
مقام پر حاشیے
کا نشان لگانا
اور پھر ان کے ماخذ
کی تفصیلات حاشیے
میں درج کرنا
ضروری ہے۔
4.2.3 ماخذ کی
نشاندہی کے
مسائل:
تحقیق
کی اخلاقیات
اور دیانت
داری کا تقاضا
ہے کہ جو بھی
نیا خیال،
نکتہ یا واقعہ
کہیں سے یا
کسی سے اخذ
کیا جائے یا
کسی بھی قسم
کے ماخذ سے
کسی طرح کا
استفادہ کیا
جائے، اس کا
مکمل حوالہ
دینا لازمی
ہے۔ حوالے
جتنےزیادہ
ہوں گے مطالعے
کے استناد اور
وقار میں
اضافے کا باعث
ہوں گے۔ اس سے
مصنف یا مقالہ
نگار کے
مطالعے کی
وسعت، جستجو
کی نوعیت اور
دیانتداری کا
ثبوت ملت ہے ۔
اس لیے حوالوں
میں بخل سے
کام نہیں لینا
چاہیے اور استفادے
کے ہر ہر مقام
پر ماخذ کا
حوالہ ضرور دینا
چاہیے۔
اب
سوال یہ پیدا
ہوتا ہے کہ یہ
حوالہ کس مقام
پر دیا جاۓ؟
عام طور پر
حوالے حاشیے
میں دیے جاتے
ہیں جو چاہے
پا ورقی ہو ،
یا باب یا
مقالے یا کتاب
کے آخر میں ۔
اس میں اختلاف
بظاہر نہیں ہے،
لیکن گزشتہ چند دہا
ہیوں سے مغربی
دنیا
میں حوالوں
کے لحاظ و
شمار کو ان کی
نوعیت کے لحاظ
سے دو بڑے حصوں میں
تقسیم کر دیا
گیا ہے ۔ ایک
بنیادی ماخذ
اور دوسرے
ثانوی ماخذ۔
بنیادی ماخذ
وہ ماخذ ہوتے
ہیں جن کا
تعلق موضوع
مطالعہ سے
راست یا قریبی
ہوتا ہے۔ مثلا
شیکسپیر کی ہر
تحریر، جو
چاہے کسی
نوعیت اور کسی
حالت میں ہو،
وہ بنیادی
ماخذ کہلائے
گی اور یہی
نہیں
بلکہ عہد
شیکسپیر میں
ان موضوعات پر
جو کچھ لکھا گیا،
چاہے وہ
مطبوعہ ہو یا
اب تک غیر
مطبوعہ ہو،
اگر وہ ہمارے
استفادے میں
آیا ہے تو ہم
اسے بنیادی
ماخذ ہی مین
شمار کریں گے۔
صرف یہی نہیں
بلکہ اس عہد
کے تعلق سے اس
عہد کاتمام
مواد، جو کسی
صورت میں
ہمارے مطالعے
میں ہماری معاونت
کرے، وہ بھی
بنیادی ماخذ
میں شمار ہو
گا۔ اگر اورنگ
زیب ہمارا
موضوع مطالعہ
ہو تو اورنگ
زیب کی ہر
تحریر اور
اورنگ زیب کے
تعلق سے اس عہد
میں لکھی جانے
والی ہر
تحریر،جو
ہمارے لیے
معاون ہو ،
سند کا کام دے
گی اور بنیادی
ماخذ کہلایے
گی۔ اس اعتبار
سے تمام عصری
دستاویزات ،
فرامین ،
مراسلت اور
خطوط وغیرہ بنیادی
ماخذ ہوتے
ہیں۔
ان
کے برعکس
ثانوی ماخذ وہ
ہوتے ہیں جو
بنیادی ماخذ
کی تعریف
پر پورے نہیں
اترتے یا تو
عہد مابعد کے
جائزوں اور
مطالعوں پر
مشتمل ہوتے
ہیں ۔ ۔
۔ ۔ ۔ یعنی
شیکسپیر کے
مذکورہ
موضوعات پر
عہد شیکسپیر
کے بعد کسی
مصنف نے قلم
اٹھایا یا بعد
میں مطالعے
اور جائزے
تحریر ہوتے
رہے، چاہے وہ
کسی نوعیت کے
ہوں، ثانوی
ماخذ کہلائیں
گے۔ اورنگ زیب
پر اگرچہ جادو
ناتھ سرکار کی
تصنیفات بے حد
معیاری ہیں،
لیکن انھیں
اورنگ زیب پر ثانوی
ماخذ کہا جائے
گا۔ اس کے
مقابلے میں
محمد ساقی
مستعد خان کی
تصنیف "ماثر
عالمگیری " جو
تجزیے و
معلومات کے
لحاظ سے جادو
ناتھ سرکار کی
تصنیف " ہسٹری
آف اورنگ زیب"
سے کم درجے کی ہے
لیکن بنیادی
ماخذ شمار ہو
گی۔
اسی
طرح آج اگر
شیکسپیر اور
اورنگ زیب پر
اعلی معیا رکی
تحقیقات ہوں،
مقالات لکھے
جائیں، کتابیں
تحریر ہوں اور
ان میں بنیادی
ماخذ سے استفادہ
کیا جائے،تب
بھی انھیں
بنیادی ماخذ
نہیں ثانوی
ماخذ ہی کہا
جائے گا۔
حوالوں
کے ضمن میں
چند دہائیوں
سے ایک یہ
رویہ سامنے
آیا ہے کہ
بنیادی
ماخذ کا
حوالہ، نہایت
اختصار سے بین
السطور ہی
قوسین میں درج
کر دیا جائے
اور عبارت کی
روانی کو جاری
رکھا جائے۔ بعض
مقالہ نگار
بنیادی کے
ساتھ ساتھ
ثانوی ماخذ کا
حوالہ بھی اسی
طرح بین اسطور
قوسین میں درج
کر دیتے ہیں،
لیکن یہ انداز
مستحسین نہیں
ہے اور اسی
لیے یہ رویہ
عام نہیں ہوا۔
جبکہ اکثر
مصنفین
حوالوں کو بین
السطور پیش
کرنے کے حق
میں نہیں اور
ان کو حواشی
میں درج کرنا
مناسب سمجھتے
ہیں ۔ یہی
طریقہ مناسب
بھی ہے، کیونکہ
جو سند بین
السطور پیش کی
جارہی ہے اس
سے طرح استناد
کو بھی دیکھنے
سے دلچسپی
رکھتے ہوں۔
استناد کا
حوالہ صرف خاص
دلچسپی رکھنے والوں
کے لیے اہم
ہوتا ہے۔
چناچہ استناد
حاشیے میں بھی
پیش کیے جا
سکتے ہیں اور
اکثریت کا عمل
ہے اور مناسب
بھی یہی ہے۔
اس
طرح اگرچہ
حوالہ پاروقی
حاشیے میں
دینا سب سے
زیاد ہ مناسب
ہے کہ اسی
صفحے پر ماخذ
کی نشاندہی ہو
جاتی ہے لیکن فی
الوقت اس امر میں یہ
رکاوٹ یا
دشواری موجود
ہے کہ جب سے
کتابت نے
مشینی سہولت
اپنا لی ہے،
ابھی تک
کمپیوٹر پر
اردو کتابت کا
مناست نظام
وضع نہیں ہو
سکا ہے
کہ حواشی کو
سہولت کے ساتھ
پاورقی
تحریر کیا جا
سکے۔ اس میں
وقت، محنت اور
توجہ زیادہ درکار
ہوتی ہے، اس
وجہ سے فی
الوقت اگر
حواشی کو باب
کے آخر یا
کتاب کے
اختتام پر
شامل کیا جائے
تو سہولت رہتی
ہے۔ زیادہ
بہتر ہے کہ
کتاب کے اختتام
پر ہی حواشی
شامل ہوں۔۔۔
ہر باب کے بعد متعلقہ
حواشی ہوں تو
بار بار ماخذ
کو دیکھنے کا
عمل بیزارکن
ہو سکتا ہے۔
ایک ہی جگہ
سلسلے سے تمام
حواشی کو مہ
یک نظر تلاش
کرنا آسان عمل
ہے۔ اس لیے
بھی کہ حواشی
کے فوری بعد
بلکہ متصل
"فہرست
اسنادمحولہ"
﴿کتابیات﴾ ہوتی
ہے جسے حوالوں
کی تفصیلات کے
لیے اگر فوری
اور اسی وقت
دیکھنا ہو تو
یہ کام مزید
آسان ہو جاتا
ہے۔
اب
سوال یہ ہے کہ
ماخذ کا حوالہ
درج کس طرح
کیا جائے؟
4.2.4
حوالہ
درج کرنے کا
طریقہ
ماخذ
کا حوالہ دینے
کے لیے عبارت
میں متعلقہ مقام
پر بالعموم
حاشیے کی
علامت یعنی'
۔۔۔۔' پر نمبر
شمار دیا جاتا
ہے، جیسے: 3،2،1 لیکن
مشینی کتابت
کے آغاز میں
چونکہ اس
علامت کو تلاش
کرنا،
استعمال کرنا
دشوار لگا اس
لیے مشینی
کاتبوں نے اس
علامت کے بجائے
قوسین کا
استعمال سہل
سمجھا اس لیے
قوسین میں
نمبر شمار لکھ
کر تقاضا پورا
کرنے لگے اور
یہ قدرے رواج
بن گیا۔ یہ
عمل آسان تو
ہے لیکن بیت
کا مذکورہ
نشان بھی کچھ
مشکل نہیں۔
قوسین میں
حاشیہ نمبر
درج کر کے اس
مقصد کو پور
کرنے میں ایک
قباحت یہ ہے
کہ قوسین کے
متنوع
استعمال رہتے
ہیں اس لیے
کسی اشتباہ
اور یکسانیت
سے بچنے کے
لیے بہتر ہے
کہ حاشیے کی
نشاندہی کے
لیے قوسین کے
استعمال کے
بجایے روایتی
بیت کا نشان
'۔۔۔۔' یہ
استعمال کیا
جایے۔
اب
سوال یہ ہے کہ
ماخذ یا سند
کے حوالے میں
ماخذ کو بنیاد
بنایا جائے یہ
مصنف کو ؟ یعنی
4.2.5 حوالے کا
اندراج مصنف
کے ذیل میں یا
ماخذ کے ذیل
میں؟
کچھ
مصنفین حاشیے
میں سند کا
حوالہ ماخذ کو
بناتے ہیں اور
حوالہ جس طرح
درج کرتے ہیں
، اس کی درج
ذیل صورتیں
عام ہیں:
1- اخلاق اور
فلسفہ اخلاق"
مصنف﴿یااز﴾مولانا
حفظ الرحمن
سیوہاروی،
ندوة المصنفین،
دہلی
1964ء ص
35
1- اخلاق اور
فلسفہ
اخلاق"،
مولانا حفظ
الرحمن سیو
ہاروی، ص
35
لیکن یہ اندراج یا ماخذ کا حوالہ منطقی او ر درست نہیں۔کیو نکہ کتاب "اخلاق اور فلسفہ" کو اس کےمصنف مولانا حفظ الرحمن سیو ہاروی نے لکھا ہے، جو اس کی تصنیف کا سبب بھی ہیں اور اس میں تحریر کردہ خیالات و مباحث کے ذمے دار بھی ہیں ۔ ہمارے لیے کسی تخلیق یا تصنیف کا خالق اور مصنف بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کتاب ثانوی اہمیت رکھتی ہے۔ چونکہ محصولہ معلومات کا اصل وسیلہ یا سبب مصنف ہے، اس لیے معلومات کا ماخذ